Books & Booklets

Books & Booklets

سبق نمبر۱

احترامِ اِنسانی کی بنیاد: الٰہی محبت

            اِحترام اِنسانی کی بنیاد محبت کا وہ رشتہ ہے جو اِنسان اور خُدا کے درمیان اُس وقت سے موجود ہے جب سے اِنسان خلق ہوا ہے۔اِسی محبت کی بنیاد پر خُدا ہر انسان کی فِکر کرتا ہے۔ اُس کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے۔ اُس پر رحم کرتا ہے۔ اُسے زندگی عطا کرتا ہے اور زندگی قائم رکھنے کے لئے تمام ضروری نعمتیں اور وسائل کثرت سے مہیا کرتا ہے۔

            اوراِسی محبت کے رِشتہ کی بنا پر خُدا تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہر انسان کاعِزّت و وقار قائم و دائم رہے۔ کوئی انسان بھی ذِلت و حقارت کا نشانہ نہ بنے۔ چنانچہ وہ ہرشخص سے تقاضاکرتے ہیں کہ وہ دیگر سب انسانوں کا احترام کرے۔ اِنجیلِ مُقَّدس میں مذکور ہے کہ فقیہوں میں سے ایک شخص نے المسیح سے پوچھا کہ سب حکموں میں اَوّل کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا،

            ”۔۔۔اَوّل یہ کہ اے اسرائیل سُن! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خداوند ہے۔ اور تو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ ۔ دوسرا یہ ہے کہ تو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ان سے بڑا اور کوئی حکم نہیں

(مرقس 12: 29-31)۔

            چنانچہ خُدا تعالیٰ کے بعد اگر کوئی ہماری محبت اور توجہ کا مرکز ہونا چاہئے تو وہ ہمارا پڑوسی ہے۔ اور پڑوسی سے مراد صرف وہی نہیں جو ہمارے ساتھ  کے مکان میں رہایش پذیر ہوتا ہے، بلکہ ہر وہ انسان ہے جو ہماری محبت‘ توجہ‘ تعاون اور مدد کا مستحق اور طلب گار ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پڑوسی سے مراد بلا امتیازِ رنگ و نسل اور عقیدہ ہر انسان ہے۔  اس سے ہم سیکھتے ہیں کہ خُدا تعالی چاہتے ہیں کہ ہم ہر انسان سے محبت رکھیں اور اُس کا احترام کریں۔

الٰہی محبت کا سبب

             خُدا اِنسان سے اس قدر محبت اور پیار کیوں کرتا ہے؟ اس کا جواب ہمیں اُن حقائق پر غور کرنے سے حاصل ہو گا جو ہم اِنسان کی تخلیق  کے بیان میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ خدا نے انسان میں کون سی ایسی خوبیاں رکھی ہیں جن کی بنیاد پر وہ انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے بڑھ کر پیار کرتا ہے۔ اِس حوالہ سے دو باتیں نہایت ہی قابلِ غور ہیں۔

الف۔انسان خُدا کی شبیہ پر

             پہلی بات جو انسان کو تمام مخلوقات سے مُنفرد اور خُدا کی نظر میں نہایت قابلِ قدر بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو خُدا نے اپنی شبیہہ اوراپنی صورت پر خلق کیا۔ اِس کا بیان توریت شریف (پیدایش 1: 26-27) میں یوں کیا گیاہے،

            ”پھر خُدا نے کہا ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبییہ کی مانند بنائیں اور خُدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیاخُدا کی صورت پر اُس کو پیدا کیا ‘نرو ناری اُن کو پیدا کیا“۔

            یہاں خُدا کی شبییہ و صورت سے مُراد جسمانی شبیہہ وصورت نہیں کیونکہ خُداہر طرح کے جسمانی خصائص سے بالا تر ایک پاک روح ہے۔ یہاں خُدا کی شبیہہ اور صورت سے مُراد الٰہی صفات یعنی پاکیزگی، محبت، برداشت، مہربانی، رحم اوربھلائی ہیں۔ چنانچہ خُدا نے انسان کو اِس انداز میں خلق کیا ہے کہ وہ اُس کی عطا کردہ صفات کو اپنی زندگی سے منعکس کرے۔

            چنانچہ خُدا کی شبیہہ پر خلق ہونے کی بنا پر سبھی انسان خُدا تعالیٰ کی نظر میں برابر اور قابلِ احترام ہیں۔ جب بھی کوئی شخص کسی انسان کی تذلیل کرتا ہے تو حقیقت میں خُدا کی شبیہہ کی  بے حُرمتی کرتا ہے جو خُدا کی توہین  کے مترادف ہے۔  یہی وہ بات ہے جوہر اِنسان سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ دوسرے اِنسانوں کو اپنی مانند جانتے ہوئے اُن کا احترام کرے۔

ب۔اِنسان میں خُدا کا دم

            اِس حوالہ سے دوسری اہم بات جو انسان کی قدرو قیمت کو بڑھادیتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان خُدا کے دم  کے باعث زندہ ہے۔  توریت شریف یوں بیان کرتی ہے،

  ” اور خُداوند خُدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکاتو انسان جیتی جان ہوا“(پیدایش2: 7) ۔

             جہاں انسان خُدا کی شبیہہ اور صورت پر خلق ہوا وہاں وہ اُس کے دم کا بھی حامل ہے۔ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ خُدا یہ دم اپنی مرضی سے عطا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے واپس  لے لیتا ہے۔ جب تک یہ دم انسان میں رہتا ہے وہ جیتی جان رہتا ہے لیکن جب خُدا یہ دم واپس  لے لیتا ہے تو انسان زندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس دم کے عطا کرنے اور واپس لینے کااختیار صرف خُدا کو ہی ہے۔  اس حوالہ سے حضرت ایوب نبی یوں فرماتے ہیں،

 ”اُسی کے ہاتھ میں ہر جاندار کی جان اور کُل بنی آدم کا دم ہے“(ایوب12: 10)۔     

             جب بھی کوئی انسان دوسرے انسان کی جان لیتا ہے تو وہ ایک جانب خُدا کی شبیہہ کی تذلیل کرکے خُدا کی توہین کرتا ہے تو دوسری طرف وہ خُدا کے اختیار کو اپنے ہاتھ میں  لیتا ہے۔ یوں وہ خُدا کے اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے شرک کا مرتکب بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ خُدا کسی کو بھی اجاز ت نہیں دیتا کہ وہ دوسروں کی جان لینے کے لئے اُس کا اختیار اپنے ہاتھ میں  لے۔

             چنانچہ خُدا تعالی  کے اپنے دَم کی بدولت انسان باقی تمام مخلوقات سے مُنفرد اور قابلِ قدر ہے۔ چونکہ خُدا کا عطا کیا ہوا زندگی کا دم ہر انسان  کے پاس ہے اس لئے ہر انسان اسی طرح اہم اور قابلِ قدر ہے جس طرح باقی سب انسان ہیں۔ اس لئے یہ حقیقت سب انسانوں کو مساوات کے بندھ میں باندھ کر ہر ایک سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا اپنی مانند احترام کریں۔

 الٰہی محبت کی وسعت

             یہ خُدا تعالیٰ کی محبت ہی ہے جو انسان کو خُدا کی نظر میں قابلِ قدر اور قابلِ احترام بناتی ہے۔ تاہم یہاں ایک اَورسوال پیدا ہوتا ہے کہ خُدا کی اس محبت کی وسعت کیا ہے؟ کیا اُس کی محبت کسی مخصوص قوم یا گروہ تک ہی محدود ہے یا سب انسانوں کے لئے میسر ہے؟

            کُچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خُدا صرف خاص قوم اور مذہب ہی سے پیار کرتا ہے اور باقی لوگوں سے اُسے عداوت اور نفرت ہے۔ یہودی قوم اس حوالہ سے خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔  پادری برکت اللہ اُن  کے بارے یوں رقمطراز ہیں،

            ”یہود اِس بات پر نازاں تھے کہ وہ خُدا کی برگزیدہ قوم ہیں لہٰذا تمام غیر یہود کو جہنمی اور گمراہ شمار کر کے اُن سے اس قدر پرہیز کرتے تھے کہ اُن کی چھت تلے جانا بھی اُن کے خیال میں ناپاکی کاموجب تھا۔ یہود سامریوں سے ایسا کینہ اورعداوت رکھتے تھے کہ اُن  کے ساتھ میل جول رکھناخنزیر کے گوشت کی طرح حرام خیال کرتے تھے“۔

(ای بُک ‘مسیحیت کی عالمگیری صفحہ نمبر26-27)

            المسیح کے نزدیک محبت کا یہ رشتہ ہر طرح کی مذہبی، معاشرتی اور سماجی گروہ بندی سے بالا تر ہے۔ آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ خُدا کی محبت عالمگیرہے۔ آپ نے سکھایا کہ خُدا تعالیٰ نیکوں پر بھی رحمت کرتا ہے اور بدوں کو بھی اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتا۔ وہ مومنوں سے بھی پیار کر تا ہے اور کافروں کو اپنی برکات سے فیض یاب کرتا ہے۔ یوں وہ نیک وبد کے امتیاز اور مومن و کافر کے فرق سے بالا تر ہو کر سب انسانوں کے ساتھ صرف انسانیت کی بنیاد پر اپنا تعلق اور رشتہ قائم رکھتا ہےاور سب اِنسانوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ بھی ایک دوسرے کی بہتری اور بھلائی  کے لئے ہر طرح  کے مذہبی اور سماجی تعصب سے بالا تر ہو کر کام کریں تاکہ دُنیا میں انسانیت کا بول بالا ہو۔ المسیح خُدا تعالیٰ  کے بارے فرماتے ہیں،

 ”وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے۔ اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے“(متی5: 45)۔   

            ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں

 ”وہ ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے“ (لوقا6: 35-36)۔

            بِلاشبہ خُدا کی محبت ہر طرح  کے امتیاز سے بالا تر ہے، وہ ہر انسان سے پیار کرتا ہے۔ وہ مومن سے بھی پیار کرتا ہے اور کافر کو بھی اپنی محبت سے محروم نہیں رکھتا۔ چنانچہ اِسی حقیقت کو بنیاد بنا کر المسیح اپنے پیروکاروں کو نصیحت کرتے ہیں

  ”کیونکہ وہ (خُداتعالیٰ) ناشکروں اور بدوں پر مہربان ہیں‘” (اس لئے) جیسا تمہارا (خُ دا)باپ رحیم ہے تُم بھی رحمدل ہو“(لوقا6: 35-36)۔

            پھر ایک اور موقع پر فرماتے ہیں،

اگر تُم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھوتو تمہارے لئے کیا اجر ہے۔ کیا محصول لینے والے بھی ایسا نہیں کرتے۔ اوراگر تُم فقط اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟ کیا غیر قوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے۔ پس چاہئے کہ تُم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ(خدا) کامل ہے“(متی5: 46-48)۔

حاصل بحث

             جیسے خُدا تعالیٰ اپنا سورج، بارش اور دیگر نعمتیں ہر اِنسان کو فراہم کر  کے ہر ایک سے بِلا اِمتیاز اپنی محبت کا اِظہار کرتے ہیں ایسے لازم ہے کہ ہم بھی بِلا اِمتیازِ رنگ و نسل اور مذہب و عقیدہ سب انسانوں سے پیار کریں اور سب کا احترام کرناہے۔